
Category - Writing
30 Sept 2026
عنوان: راستے ملتے نہیں تو بنائے جاتے ہیں
راستے ملتے نہیں تو بنائے جاتے ہیں مجھے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی ایک ہیڈمسٹریس آج بھی یاد ہیں۔ بڑا عہدہ رکھنے کے باوجود ان کے انداز میں نہ رعب تھا، نہ غیرضروری سختی۔ وہ بہت نرم مزاج اور منکسرالمزاج تھیں۔ بچے، اساتذہ اور عملے کے افراد بلاجھجک ان کے پاس آجاتے تھے۔ ایک دن ایک استانی نے ان سے کہا کہ جماعت میں کئی بچے بہت ذہین ہیں، لیکن سب کے سامنے بولنے سے گھبراتے ہیں۔ اسکول میں اس وقت کوئی باقاعدہ تقریری سرگرمی شروع کرنے کے لیے نہ اضافی وقت تھا، نہ وسائل اور نہ ہی کوئی مکمل منصوبہ۔ انہوں نے مسئلے کو یہ کہہ کر ملتوی نہیں کیا کہ حالات مناسب ہوں گے تو کچھ کریں گے۔ اگلی صبح اسمبلی کے اختتام پر انہوں نے اعلان کیا: “کل سے روزانہ ایک بچہ صرف دو منٹ کے لیے یہاں آئے گا۔ وہ کوئی واقعہ، خیال، سوال یا سیکھی ہوئی بات سب کے ساتھ بانٹ سکتا ہے۔ اسے بہترین بولنے کی ضرورت نہیں صرف آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔” پہلے دن ایک بچی سامنے آئی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور آواز اتنی دھیمی تھی کہ پہلی صف کے بچے بھی مشکل سے سن سکے۔ اس نے چند جملے کہے اور خاموش ہوگئی۔ ہیڈمسٹریس نے اسے اپنے پاس بلایا اور مسکرا کر کہا: “آج تم نے تقریر نہیں کی، تم نے اپنے لیے ایک راستہ بنایا ہے۔ کل اس راستے پر چلنا آج سے آسان ہوگا۔” یہ صرف دو منٹ کی ایک معمولی سی سرگرمی تھی، مگر آہستہ آہستہ اس نے پورے اسکول کا ماحول بدل دیا۔ بچے اپنے خیالات لکھنے لگے۔ اساتذہ انہیں تیاری میں مدد دینے لگے۔ عملے کے ایک فرد نے اپنی خوشی سے ایک چھوٹا سا بورڈ تیار کردیا، جس پر روز بولنے والے بچے کا نام لکھا جاتا۔ کچھ عرصے بعد وہ بچے بھی سامنے آنے لگے جو پہلے جماعت میں اپنا نام پکارے جانے پر نظریں جھکا لیتے تھے۔ جس بچی کی آواز پہلے دن سنائی نہیں دے رہی تھی، کچھ مہینوں بعد وہ نئے بچوں کو سمجھا رہی تھی کہ گھبرانا کوئی کمزوری نہیں؛ کوشش نہ کرنا اصل رکاوٹ ہے۔ اس دن میں نے جانا کہ تبدیلی ہمیشہ کسی بڑے منصوبے، بڑے بجٹ یا مکمل تیاری سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی صرف دو منٹ، ایک موقع اور کسی انسان کا خلوص ایک بند راستہ کھول دیتا ہے۔ ہم اکثر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ ہمیں مکمل اختیار، بہترین حالات اور تمام وسائل میسر آجائیں۔ لیکن راستے ہمیشہ تیار حالت میں نہیں ملتے۔ بعض راستے پہلا قدم اٹھانے سے وجود میں آتے ہیں۔ آپ پوری منزل نہیں بنا سکتے تو پہلا قدم آسان بنادیں۔ آپ سب کی زندگی نہیں بدل سکتے تو کسی ایک انسان کو آغاز کا موقع دے دیں۔ جو چھوٹا راستہ آج آپ بنائیں گے، ممکن ہے کل بہت سے لوگ اسی راستے سے آگے بڑھیں۔ — Hanifa’s Diary


Comments
0Reflections from readers. Be kind — reports go to the GHL team.
Loading comments…