استاد کی بے توقیری، معاشرے کی کمزوری کسی قوم کے زوال کا آغاز ہمیشہ میدانِ جنگ سے نہیں ہوتا؛ بعض اوقات یہ زوال اس دن شروع ہوتا ہے جب علم دینے والے ہاتھ کی عزت کم اور اسے نیچا دکھانے کا حوصلہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ استاد وہ شخص ہے جو بچے کے ہاتھ میں صرف قلم نہیں دیتا، اسے سوچنے کا ہنر بھی سکھاتا ہے۔ وہ الف، ب، پ سے سفر شروع کروا کر اسے الفاظ، خیالات، سوالات اور خوابوں کی دنیا تک لے جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج بعض جگہ یہی استاد اپنی ہی جماعت میں احترام کے لیے ترس رہا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کچھ طلبہ استاد کا مذاق اڑاتے ہیں یا اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب والدین بھی بچے کی ہر شکایت کو بغیر تحقیق درست مان لیتے ہیں، استاد کی وضاحت سنے بغیر اسے قصوروار ٹھہرا دیتے ہیں اور یوں بچے کے ذہن میں یہ تصور مضبوط ہو جاتا ہے کہ استاد قابلِ احترام نہیں بلکہ قابلِ اعتراض ہے۔ یقیناً استاد بھی انسان ہے۔ اس سے غلطی ہو سکتی ہے اور اگر کوئی استاد زیادتی کرے تو اس کے خلاف مناسب اور باوقار طریقے سے شکایت ہونی چاہیے۔ لیکن استاد کی غلطی کا مطلب استاد کی توہین کا جواز نہیں۔ احتساب اور بے عزتی میں فرق ہے، اختلاف اور بدتمیزی میں بھی فرق ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوال کرنا اچھی بات ہے، اختلاف کرنا بھی حق ہے، لیکن لہجہ، الفاظ اور رویہ ہمیشہ مہذب ہونا چاہیے۔ اسی طرح والدین کو بھی بچے کی بات سننے کے ساتھ استاد کا مؤقف جاننے اور حقیقت کو سمجھنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام صرف اچھی عمارت، جدید کتابوں اور بہترین ٹیکنالوجی سے نہیں بنتا۔ اس کے لیے ایسا ماحول بھی ضروری ہے جہاں استاد عزت کے ساتھ پڑھائے، طالب علم اعتماد کے ساتھ سیکھے اور والدین تعاون کے ساتھ ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہماری نسلیں بدلنی چاہئیں۔ لیکن نسلیں صرف نصاب سے نہیں بدلتیں؛ وہ رویوں، اقدار اور مثالوں سے بدلتی ہیں۔ اگر بچہ گھر میں استاد کے لیے احترام دیکھے گا تو وہ سکول میں بھی احترام سیکھے گا۔ اگر وہ گھر میں استاد کی تضحیک سنے گا تو وہ کلاس روم میں بھی وہی رویہ لے کر جائے گا۔ یاد رکھیے، استاد کو احترام دینا استاد پر احسان نہیں؛ یہ اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر ماحول دینا ہے۔ فوج سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے، ڈاکٹر زندگی بچاتا ہے، کسان خوراک اگاتا ہے، انجینئر تعمیر کرتا ہے؛ مگر استاد ان سب کرداروں کے لیے انسان تیار کرتا ہے۔ اس لیے استاد کو معاشرے میں عزت دینا دراصل علم، تعلیم اور آنے والی نسل کے مستقبل کو عزت دینا ہے۔ آئیے استاد کو اندھی عقیدت نہیں، باوقار احترام دیں؛ غلطی ہو تو دلیل سے بات کریں، زیادتی ہو تو قانون کے مطابق آواز اٹھائیں، مگر شخصیت کی تذلیل نہ کریں۔ کیونکہ جس معاشرے میں علم دینے والا عزت پائے گا، وہاں علم بھی عزت پائے گا۔ اور جہاں علم کی عزت ہوگی، وہاں مستقبل کے لیے امید بھی زندہ رہے گی۔ (تعلیم پاکستان) #تعلیم #Taleem #teacherlife #Pakistan ghl-caption
Category - Writing
2 Oct 2026


Comments
0Reflections from readers. Be kind — reports go to the GHL team.
Loading comments…