
Category - Writing
15 Sept 2026
عنوان: وہ چھوٹے قدم جو مجھے یاد بھی نہ رہے
ایک دن میں کسی دوسرے شہر جاتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی تھی۔ ایک لڑکی میرے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔ اس نے خود کو مکمل طور پر ڈھانپ رکھا تھا، حتیٰ کہ اس کا چہرہ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے میرا نام لیتے ہوئے تصدیق چاہی: “کیا آپ وہی ہیں؟” میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ بےاختیار میرے ہاتھ چومنے لگی۔ پھر اس نے بتایا کہ وہ کئی سال پہلے میری طالبہ رہ چکی ہے۔ وہ کہنے لگی: آپ کو اندازہ نہیں کہ آپ نے میری زندگی میں کتنا فرق پیدا کیا۔ میں کلاس کی آخری نشست پر بیٹھتی تھی۔ اکثر دیر سے آتی تھی، گھر سے زیادہ تعاون حاصل نہیں تھا اور میری تعلیمی بنیاد بھی بہت کمزور تھی۔ دوسرے اساتذہ مجھ سے تقریباً امید چھوڑ چکے تھے، لیکن آپ نے کوشش نہیں چھوڑی۔ آپ روز مجھے صرف ایک چھوٹی سی بات بتاتی تھیں, آج یہ کرلو، پھر یہ طریقہ آزما کر دیکھو۔ جب ان معمولی ہدایات پر عمل کرنے سے مجھے تھوڑی سی کامیابی ملنے لگی تو میرے اندر اعتماد پیدا ہوا۔ آج میرے تمام بہن بھائی تعلیم یافتہ ہیں۔ آپ نے میرے لیے جو کردار ادا کیا تھا، بعد میں میں نے وہی کردار ان کے لیے ادا کیا۔” میں اسے سنتی رہی۔ مجھے اپنی دی ہوئی وہ چھوٹی چھوٹی ہدایات یاد بھی نہیں تھیں۔ میں نے اس وقت کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ صرف اتنا کیا تھا جتنا ہر روز کر سکتی تھی۔ لیکن برسوں بعد معلوم ہوا کہ وہ معمولی کوشش ایک طالبہ تک محدود نہیں رہی تھی۔ وہ اس کے ذریعے ایک پورے خاندان تک پہنچ چکی تھی۔ اس دن میرے یقین نے ایک نئی صورت اختیار کی: احساس، یقین اور تسلسل کے ساتھ اٹھائے گئے چھوٹے قدم یقیناً بڑا فرق پیدا کرتے ہیں, چاہے ان کا اثر ہمیں فوری طور پر دکھائی نہ دے۔ — Hanifa’s Diary


Comments
0Reflections from readers. Be kind — reports go to the GHL team.
Loading comments…